فارن فنڈنگ کیس میں چیٹ جی پی ٹی کا حوالہ عدالت میں زیر بحث

فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی کا حوالہ دیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے عدالتی کارروائی کے دوران دلچسپ صورتحال پیدا کر دی۔
جمعرات کو بھی عمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا چالان عدالت میں جمع نہ ہو سکا۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ رجسٹرار بینکنگ کورٹ کی جانب سے چالان کی اسکرونٹی کا عمل جاری ہے، جس کے باعث پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔
دورانِ سماعت عمران خان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ چیٹ جی پی ٹی کے مطابق رجسٹرار کو چالان کی اسکرونٹی کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ وکیل نے سوال اٹھایا کہ یہ کون سا کیس ہے جس میں رجسٹرار خود اسکرونٹی کر رہا ہے۔
اس پر پراسیکیوٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شاید وکیل کو معلوم نہیں کہ خصوصی عدالتوں میں چالان کی اسکرونٹی رجسٹرار ہی کرتا ہے۔ پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ اگر چیٹ جی پی ٹی ایسا کہتا ہے تو اس پر قانونی مؤقف کیسے دیا جا سکتا ہے۔
عدالت میں اس بحث کے دوران قانونی اور تکنیکی نکات پر بھی گفتگو جاری رہی جبکہ کارروائی کے اختتام پر دو ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 مئی تک ملتوی کر دی ہے۔ اس دوران چالان کی اسکرونٹی اور قانونی طریقہ کار سے متعلق معاملات آئندہ سماعت میں زیر غور آئیں گے۔
یہ معاملہ عدالتی کارروائی میں مصنوعی ذہانت کے حوالہ جات کے استعمال کی ایک غیر معمولی مثال کے طور پر سامنے آیا ہے، جس نے قانونی حلقوں میں بھی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔















